عراق کے سیاسی گروپ ، نو اور دس نومبر کو بھی تشکیل حکومت کے لئے مذاکرات جاری رکھیں گے۔ عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی کی کوششوں سے شروع ہونے والا اربیل اجلاس، آٹھ نومبر سے شروع ہوا ہے۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ عراق کے تمام سیاسی گروپوں کے رہنماؤں کی موجودگی میں ایک مشترکہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ وہ بحران کو حل کرنا اور اس میں آٹھ ماہ سے جاری سیاسی خلاء سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔مسعود بارزانی نے اربیل اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد، قومی اتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ اربیل اجلاس کے پہلے دن، تین اصولوں، قومی اتحاد، قومی آشتی اور قومی شراکت پر غور کیا گیا۔ عراق کے تقریبا تمام سیاسی گروپوں کے رہنماؤں نے قومی اتفاق رائے اور تمام سیاسی گروپوں کی سیاسی مشارکت سے حکومت تشکیل دینے پر تاکید کی۔اس میں کوئی شک نہيں کہ ایک مشترکہ اجلاس میں عراق کے سیاسی گروپوں کے سربراہوں اور رہنماؤں کی موجودگی اور عراقی معاشرے کی موجودہ ضرورتوں پر اپنے موقف کا اظہار خود ایک مثبت اور آگے کی جانب ایک قدم ہے۔مسعود بارزانی نے اربیل اجلاس کے میزبان کی حیثیت سے اس اجلاس کو تشکیل حکومت کی سمت ایک اہم قدم قرار دیاہے۔اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ 20 نومبر کو عراقی پارلیمنٹ اجلاس بلائے گی۔ اس بات کے پیش نظر کہ عراق کے سیاسی گروپوں میں بعض اہم عہدوں کے سلسلے میں اتفاق رائے ہو چکا ہے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ پارلیمانی اجلاس شروع ہوتے ہی تشکیل حکومت کا عمل مزید تیزی سے شروع ہو جائے گا۔بہر حال، منگل اور بدھ کو ہونے والے مشترکہ اجلاس کا ایجنڈا پوری طرح واضح ہے۔ عراق کے تمام سیاسی گروپوں کی کوششیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ جمعرات کے دن پارلیمانی اجلاس تک پارلیمانی اختلافات ختم ہوجائيں گے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان وزارتوں کے قلمدان کی تقسیم پر بھی اتفاق رائے پیدا ہوجائے گا۔چونکہ اتحاد، آئندہ حکومت میں سیاسی گروپوں کی شراکت اور قومی اتفاق رائے، تین ایسے اصول ہیں جو اربیل اجلاس کا موضوع بنے ہوئے ہیں اسی لئے عراقی عوام کو توقع ہے کہ اربیل اجلاس ختم ہونے کے بعد، اس ملک کے سیاسی ماحول میں واضح فراخی آئےگی اور نئی حکومت جلد سے جلد اپنا کام شروع کردے گی۔............/110
8 نومبر 2010 - 20:30
News ID: 212485
شمالی عراق میں واقع شہر اربیل آج کل عراق کے سیاسی گروپوں کے رہنماؤں کا میزبان ہے۔